وطن کے دفاع میں جان دینے والے میجر شبیر شریف شہید کا 51 واں یوم شہادت 

وطن کے دفاع میں جان دینے والے میجر شبیر شریف شہید کا 51 واں یوم شہادت

راولپنڈی : 1971 کی پاک بھارت جنگ میں سلیمانکی سیکٹر  میں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبوانے والے پاکستان کے عظیم سپوت میجر شبیر شریف شہید کا آج 51 واں یوم شہادت منایا جا رہا ہے۔

وطن کے دفاع میں جان دینے والے میجر شبیر شریف شہید کا 51 واں یوم شہادت 

میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر 28اپریل 1943 کو ضلع گجرات کے قصبے کنجاہ میں  میں پیدا ہوئے اور لاہور کے سینٹ انتھونی اسکول اور گورنمنٹ کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ میجر شبیر شریف نے 1965ء کے پاک بھارت معرکے میں ٹروٹی کے محاذ پر دوران گشت بھارتی آرٹلری بیٹری کی گن پوزیشنوں پر حملہ کرکے اس پر کنٹرول حاصل کیا اور چار فوجیوں کو جنگی قیدی بناکر دو گنز تباہ کرکے اور ایک قبضے میں لے لی۔ ان کی اس کامیابی سے 10 انفینٹری بریگیڈ، 6 ایف ایف، 13 لانسرز اور 14 پنجاب ریجمنٹ کو نمایاں پیش رفت کا موقع ملا اور بھارتی فوجی ٹروٹی اور جوڑیاں سے بوکھلا کر میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

اس بہادری پر انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا، انہیں دسمبر 1971ء میں بطور کمپنی کمانڈر 6 ایف ایف یہ آرڈر ملا کہ وہ اپنے جوانوں پر مشتمل کمپنی کے ہمراہ سلیمانکی ہیڈ ورکس کے قریب سبونہ بند کے اہم مقام کا کنٹرول حاصل کریں، اس مقام پر دشمن کی آسام ریجمنٹ کی کمپنی سے زائد نفری پر مشتمل ٹیم تعینات تھی، جسے ٹینکوں کے اسکواڈرن کی سپورٹ بھی حاصل تھی۔

میجر شبیر شریف اگلے 3 دن اور راتیں منظم کوشش اور اعلیٰ مہارت سے دشمن کے لیے چھلاوا بنے رہے۔ انہوں نے  دشمن کے 43 فوجی جہنم واصل کرتے ہوئے 4 ٹینک تباہ کرکے حریف پر کاری ضرب لگائی۔ میجر شبیر شریف اور ان کے ساتھیوں نے دشمن کی 2 بٹالین کو سخت مزاحمت دی، اس مقام پر دوران جنگ بھارتی میجر نارائن سنگھ نے میجر شبیر شریف کو للکارا جس کا جواب میجر شبیر شریف نے دشمن کے سامنے کھڑے ہوکر دیا۔ میجر نارائن سنگھ کے پھینکے گرنیڈ سے میجر شبیر شریف کی شرٹ آگ لگنے سے جل گئی، دونوں کے درمیان دو بدو مقابلہ ہوا، جس میں میجر شبیر شریف نے اپنے دشمن کو زمین پر گرا کر اپنا گھٹنا اس کے سینے پر رکھ کر قابو کیا اور پھر مشین گن کا پورا برسٹ اس پر خالی کردیا۔

شبیر شریف نے 4 سے 6 دسمبر تک مسلسل دشمن کے کئی حملے ناکام بنائے، میجر شبیر شریف نے 6 دسمبر کو دشمن کے فضائی تعاون اور ٹینکوں سے کیے گئے بڑے حملےکو ناکام بناتے ہوئے اپنے سینے پر وار سہا اور وطن کی راہ میں جام شہادت نوش کیا۔

ان کی ہمت اور بہادری کے اعتراف میں انھیں پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نواز گیا۔  انھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ نشان حیدر اور ستارہ جرات حاصل کرنے والی واحد شخصیت ہیں۔

  میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی جنرل راحیل شریف پاک فوج کے سپہ سالار کے طور پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں ۔ جبکہ ان کے قریبی عزیز میجر عزیز بھٹی نے 1965ء کی جنگ میں دلیری کی بے مثال داستان رقم کرکے نشان حیدر حاصل کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں